کوئٹہ کے علاقے ریگی، تھانہ کچلاک کی حدود میں گندم تھریشر کے حساب کتاب کے دوران پچاس روپے کے معمولی تنازع نے خونی شکل اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق کاکڑ (بازئی) زمین مالک اور بزگر پرکانی (بلوچ) قبائل کے افراد کے درمیان گندم تھریشر لگانے کے بعد حساب کتاب میں پچاس روپے کی کمی بیشی پر تلخ کلامی ہوئی، جو بعد ازاں جھگڑے میں تبدیل ہوگئی۔
اطلاعات کے مطابق بازئی قبیلے کے افراد نے اپنے بزگروں پر حملہ کرتے ہوئے تیز دھار آلے (خنجروں) سے وار کیے، جس کے نتیجے میں بزگر پرکانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے شیر جان پرکانی موقع پر جاں بحق ہوگئے، جبکہ شائستہ خان اور درمحمد زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر مزید علاج کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ کے شعبہ حادثات منتقل کر دیا گیا ہے۔
جانبحق شخص کی آج نمازجنازہ ادا کرکے تدفین کردی گئی ہے. فاتحہ جوانی پرکانی ہاوس میں جاری ہے
واقعے کے بعد پولیس نے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ تاہم واقعے کی سرکاری سطح پر تصدیق اور مقدمے کے اندراج سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔

Leave a Reply