کوئٹہ، (ویب ڈیسک ) ایسوسی ایشن فار انٹیگریٹڈ ڈویلپمنٹ (AID) بلوچستان اور DDI South Asia کے باہمی تعاون سے بلوچستان میں نوجوانوں کی قیادت میں ڈیجیٹل احتساب اور رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) ایکٹ 2021 کے مؤثر نفاذ کے فروغ کے لیے ایک اہم منصوبے کے افتتاحی پروگرام اور ملٹی اسٹیک ہولڈرز رابطہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
پروگرام میں مختلف سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، نوجوانوں، خواتین، ٹرانس جینڈر کمیونٹی، افراد باہم معذوری، اقلیتی برادری، میڈیا، اکیڈمیا اور ترقیاتی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
پروگرام کے آغاز پر شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر AID بلوچستان عادل جہانگیر نے منصوبے کے مقاصد اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں شفافیت، جوابدہی، شہری شمولیت اور معلومات تک رسائی کے فروغ کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
پروجیکٹ کی تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے AID بلوچستان کے منیجر ایڈووکیسی اینڈ پروٹیکشن میر بہرام لہڑی نے کہا کہ بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 شہریوں کو سرکاری معلومات تک رسائی کا قانونی حق فراہم کرتا ہے، تاہم اس قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے عوامی آگاہی، نوجوانوں کی فعال شمولیت، ڈیجیٹل سہولیات اور سرکاری اداروں کی جانب سے معلومات کی بروقت فراہمی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ “نوجوانوں کی قیادت میں ڈیجیٹل احتساب: بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ کا فروغ” کے عنوان سے جاری اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا، شہریوں میں رائٹ ٹو انفارمیشن کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا، ڈیجیٹل شہری ذمہ داری کو فروغ دینا اور سرکاری اداروں میں شفافیت و جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ منصوبے کی مدت بارہ ہفتے ہے جبکہ اس کا مرکز کوئٹہ ہوگا۔
میر بہرام لہڑی نے کہا کہ منصوبے کے تحت نوجوانوں کو رائٹ ٹو انفارمیشن اور ڈیجیٹل شہری ذمہ داری کے حوالے سے تربیت فراہم کی جائے گی، آر ٹی آئی درخواستوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، آگاہی نشستیں منعقد کی جائیں گی، جبکہ سرکاری ویب سائٹس کا شفافیت، معلومات کی دستیابی، رسائی، صارف دوست سہولیات اور رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ بھی لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے حکومت اور شہریوں کے درمیان موجود فاصلہ کم کرنے، سرکاری اداروں کی جوابدہی میں اضافہ، معلومات تک رسائی کو آسان بنانے، عوامی شمولیت کو فروغ دینے اور بلوچستان میں شفاف و مؤثر طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
میر بہرام لہڑی نے تمام متعلقہ سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، میڈیا، اکیڈمیا اور دیگر شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے بھرپور تعاون کریں، رابطہ کاری کو مضبوط بنائیں، مشاورتی عمل میں فعال کردار ادا کریں، متعلقہ معلومات کی فراہمی میں تعاون کریں اور آگاہی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں۔
پروگرام میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی نمائندہ ڈاکٹر فرخندہ اورنگزیب، سینئر صحافی میر بہرام بلوچ، ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ وسیم باری، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی فضاء کنول اور سیماب رفیق، ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی نمائندہ مہتاب، افراد باہم معذوری کی نمائندگی کرنے والے عنایت سرپرہ، محکمہ تعلقات عامہ کے بشیر احمد، یوتھ نمائندے ناصر حسین، سول سوسائٹی کے نمائندے سلام خان، محکمہ تعلیم کے ملک فاروق بنگلزئی، نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (NCHD) کے سینئر منیجر عطاء اللہ بادینی سمیت سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، اکیڈمیا، اقلیتی برادری اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکاء نے منصوبے کو بلوچستان میں شفافیت، احتساب، معلومات تک رسائی اور نوجوانوں کی بامعنی شمولیت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے اس کی کامیابی کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
پروگرام کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے مؤثر نفاذ، شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق اور بلوچستان میں شفاف و جوابدہ طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
کوئٹہ: نوجوانوں کی قیادت میں ڈیجیٹل احتساب اور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ کے فروغ کے لیے اہم منصوبے کا افتتاح

Leave a Reply