سرکاری فنڈز اربوں میں، مگر مبینہ اضافی خرچے کے بغیر صفائی نہیں؟ شہری حکومت سے جواب مانگنے لگے
صفاء کوئٹہ ٹیم پر مبینہ طور پر خرچہ طلب کرنے کے الزامات، قمبرانی روڈ کچرے کے ڈھیروں میں تبدیل
کوئٹہ: قمبرانی روڈ پر صفائی کا نظام شدید بدحالی کا شکار ہے، جبکہ صفاء کوئٹہ کی متعلقہ ٹیم کے حوالے سے شہریوں اور تاجر برادری کی جانب سے سنگین شکایات سامنے آئی ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ متعلقہ عملہ مبینہ طور پر خرچہ مانگتا ہے اور خرچہ دیے بغیر کچرا اٹھانے سے انکار کر دیتا ہے۔
شہریوں کے مطابق صفائی کے لیے سرکاری خزانے سے بھاری رقوم مختص ہونے کے باوجود قمبرانی روڈ پر جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر موجود ہیں۔ اگر صفائی کی ذمہ داری سرکاری فنڈز سے پوری کی جا رہی ہے تو پھر شہریوں یا تاجروں سے مبینہ طور پر اضافی خرچے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ یہ سوال حکومت اور متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
کچرے کے ڈھیروں کے باعث تاجر برادری اور شہریوں کو بدبو، آلودگی اور آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ علاقے کا ماحول بھی ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔
شہریوں نے حکومت بلوچستان، متعلقہ محکمے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قمبرانی روڈ پر صفائی کی ناقص صورتحال اور مبینہ طور پر خرچہ طلب کرنے کی شکایات کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور سرکاری صفائی فنڈز کے استعمال کی بھی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فنڈز موجود ہونے کے باوجود اگر کچرا صرف مبینہ اضافی خرچے کی ادائیگی پر اٹھایا جائے گا تو حکومت کو عوام کے سامنے اس کا واضح جواب دینا ہوگا۔

Leave a Reply