میر سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ ہاؤس، کوئٹہ
22 مئی 2026
موضوع:
محترم جناب،
ہمیں معلوم ہوا ہے کہ حکومتِ بلوچستان نے بلوچستان ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026 اور 2023 کی ترمیم شدہ پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت تمام ٹینڈر نوٹسز، دعوتِ نیلامی، پری کوالیفکیشن نوٹسز اور اظہارِ دلچسپی (EOI) سے متعلق اشتہارات صرف BPPRA ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے جائیں گے۔
یہ پالیسی دراصل اخبارات میں مذکورہ اشتہارات کی اشاعت روکنے کی کوشش ہے، جس کے نتیجے میں صوبہ بلوچستان کی اخباری صنعت شدید مالی بحران کا شکار ہو جائے گی اور حکومت و پریس کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس نوعیت کی پالیسی اس سے قبل حکومتِ پنجاب نے بھی نافذ کی تھی، تاہم APNS کے احتجاج اور درخواست پر وزیراعلیٰ پنجاب نے اسے واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ نئی اشتہاری پالیسی کے ذریعے صوبائی بیوروکریسی حکومتِ بلوچستان اور میڈیا کے درمیان دوریاں پیدا کرنا چاہتی ہے، جس سے پرنٹ میڈیا کے ساتھ آپ کے خوشگوار تعلقات متاثر ہوں گے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ اخبارات میں ٹینڈر نوٹسز کی اشاعت روکنے سے نہ صرف اخبارات کی اشتہاری آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوگی بلکہ ممکنہ بولی دہندگان بھی ایسی اہم عوامی معلومات تک رسائی سے محروم ہو جائیں گے، جس کے باعث وہ خریداری کے عمل میں حصہ لینے سے قاصر رہیں گے۔ لہٰذا یہ اقدام شفافیت اور پروکیورمنٹ قوانین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، جسے واپس لیا جانا چاہیے۔
اے پی این ایس کو ہمیشہ حکومتِ بلوچستان، خصوصاً آپ کے دورِ حکومت میں بھرپور تعاون حاصل رہا ہے، اور ہمیں امید ہے کہ آپ کی قیادت میں حکومتِ بلوچستان پریس اور حکومت کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس پالیسی کو واپس لے کر بلوچستان کے اخبارات کو درپیش اس مسئلے کا حل نکالے گی۔
شکریہ۔
مخلص،
(سینیٹر سرمد علی)
صدر اے پی این ایس
میر سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ ہاؤس، کوئٹہ
22 مئی 2026
موضوع:
محترم جناب،
ہمیں معلوم ہوا ہے کہ حکومتِ بلوچستان نے بلوچستان ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026 اور 2023 کی ترمیم شدہ پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت تمام ٹینڈر نوٹسز، دعوتِ نیلامی، پری کوالیفکیشن نوٹسز اور اظہارِ دلچسپی (EOI) سے متعلق اشتہارات صرف BPPRA ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے جائیں گے۔
یہ پالیسی دراصل اخبارات میں مذکورہ اشتہارات کی اشاعت روکنے کی کوشش ہے، جس کے نتیجے میں صوبہ بلوچستان کی اخباری صنعت شدید مالی بحران کا شکار ہو جائے گی اور حکومت و پریس کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس نوعیت کی پالیسی اس سے قبل حکومتِ پنجاب نے بھی نافذ کی تھی، تاہم APNS کے احتجاج اور درخواست پر وزیراعلیٰ پنجاب نے اسے واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ نئی اشتہاری پالیسی کے ذریعے صوبائی بیوروکریسی حکومتِ بلوچستان اور میڈیا کے درمیان دوریاں پیدا کرنا چاہتی ہے، جس سے پرنٹ میڈیا کے ساتھ آپ کے خوشگوار تعلقات متاثر ہوں گے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ اخبارات میں ٹینڈر نوٹسز کی اشاعت روکنے سے نہ صرف اخبارات کی اشتہاری آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوگی بلکہ ممکنہ بولی دہندگان بھی ایسی اہم عوامی معلومات تک رسائی سے محروم ہو جائیں گے، جس کے باعث وہ خریداری کے عمل میں حصہ لینے سے قاصر رہیں گے۔ لہٰذا یہ اقدام شفافیت اور پروکیورمنٹ قوانین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، جسے واپس لیا جانا چاہیے۔
اے پی این ایس کو ہمیشہ حکومتِ بلوچستان، خصوصاً آپ کے دورِ حکومت میں بھرپور تعاون حاصل رہا ہے، اور ہمیں امید ہے کہ آپ کی قیادت میں حکومتِ بلوچستان پریس اور حکومت کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس پالیسی کو واپس لے کر بلوچستان کے اخبارات کو درپیش اس مسئلے کا حل نکالے گی۔
شکریہ۔
مخلص،
(سینیٹر سرمد علی)
صدر اے پی این ایس

Leave a Reply