Daily Gerowk Balochistan
September 13, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
لوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت متفق اور یکسو ہے، اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیDAB-322راجی راہشون میر اسد اللہ بلوچ کا حاجی خلیل الرحمان کی وفات پر اظہار تعزیتڈی آی او ڈاکٹر نصیر علی شاہ کی قابل تحسینسردار بہادر خان ویمنز یونیورسٹی نے ہاسٹلز میں بدانتظامی کی خبروں کی تردید کردیشہداء کا لہو، شاہینوں کی پرواز ، 1965 کی فضائی جنگگزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیDPRQ-1171اسلام آباد کانفرنس میں شرکت کرنے والے گالیاں کھا کر واپس آئے ہیں، صادق عمرانیقمبرانی روڈ پر صفائی کے نام پر مبینہ من مانی، خرچہ دیے بغیر کچرا اٹھانے سے انکارلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت متفق اور یکسو ہے، اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیDAB-322راجی راہشون میر اسد اللہ بلوچ کا حاجی خلیل الرحمان کی وفات پر اظہار تعزیتڈی آی او ڈاکٹر نصیر علی شاہ کی قابل تحسینسردار بہادر خان ویمنز یونیورسٹی نے ہاسٹلز میں بدانتظامی کی خبروں کی تردید کردیشہداء کا لہو، شاہینوں کی پرواز ، 1965 کی فضائی جنگگزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیDPRQ-1171اسلام آباد کانفرنس میں شرکت کرنے والے گالیاں کھا کر واپس آئے ہیں، صادق عمرانیقمبرانی روڈ پر صفائی کے نام پر مبینہ من مانی، خرچہ دیے بغیر کچرا اٹھانے سے انکار

۔APNS نے بلوچستان میڈیا پالیسی 2026 سے متعلق وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو خط لکھ دیا

میر سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ ہاؤس، کوئٹہ

22 مئی 2026

موضوع:

محترم جناب،

ہمیں معلوم ہوا ہے کہ حکومتِ بلوچستان نے بلوچستان ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026 اور 2023 کی ترمیم شدہ پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت تمام ٹینڈر نوٹسز، دعوتِ نیلامی، پری کوالیفکیشن نوٹسز اور اظہارِ دلچسپی (EOI) سے متعلق اشتہارات صرف BPPRA ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے جائیں گے۔

یہ پالیسی دراصل اخبارات میں مذکورہ اشتہارات کی اشاعت روکنے کی کوشش ہے، جس کے نتیجے میں صوبہ بلوچستان کی اخباری صنعت شدید مالی بحران کا شکار ہو جائے گی اور حکومت و پریس کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس نوعیت کی پالیسی اس سے قبل حکومتِ پنجاب نے بھی نافذ کی تھی، تاہم APNS کے احتجاج اور درخواست پر وزیراعلیٰ پنجاب نے اسے واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ نئی اشتہاری پالیسی کے ذریعے صوبائی بیوروکریسی حکومتِ بلوچستان اور میڈیا کے درمیان دوریاں پیدا کرنا چاہتی ہے، جس سے پرنٹ میڈیا کے ساتھ آپ کے خوشگوار تعلقات متاثر ہوں گے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ اخبارات میں ٹینڈر نوٹسز کی اشاعت روکنے سے نہ صرف اخبارات کی اشتہاری آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوگی بلکہ ممکنہ بولی دہندگان بھی ایسی اہم عوامی معلومات تک رسائی سے محروم ہو جائیں گے، جس کے باعث وہ خریداری کے عمل میں حصہ لینے سے قاصر رہیں گے۔ لہٰذا یہ اقدام شفافیت اور پروکیورمنٹ قوانین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، جسے واپس لیا جانا چاہیے۔

اے پی این ایس کو ہمیشہ حکومتِ بلوچستان، خصوصاً آپ کے دورِ حکومت میں بھرپور تعاون حاصل رہا ہے، اور ہمیں امید ہے کہ آپ کی قیادت میں حکومتِ بلوچستان پریس اور حکومت کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس پالیسی کو واپس لے کر بلوچستان کے اخبارات کو درپیش اس مسئلے کا حل نکالے گی۔

شکریہ۔

مخلص،

(سینیٹر سرمد علی)
صدر اے پی این ایس

میر سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ ہاؤس، کوئٹہ

22 مئی 2026

موضوع:

محترم جناب،

ہمیں معلوم ہوا ہے کہ حکومتِ بلوچستان نے بلوچستان ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026 اور 2023 کی ترمیم شدہ پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت تمام ٹینڈر نوٹسز، دعوتِ نیلامی، پری کوالیفکیشن نوٹسز اور اظہارِ دلچسپی (EOI) سے متعلق اشتہارات صرف BPPRA ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے جائیں گے۔

یہ پالیسی دراصل اخبارات میں مذکورہ اشتہارات کی اشاعت روکنے کی کوشش ہے، جس کے نتیجے میں صوبہ بلوچستان کی اخباری صنعت شدید مالی بحران کا شکار ہو جائے گی اور حکومت و پریس کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس نوعیت کی پالیسی اس سے قبل حکومتِ پنجاب نے بھی نافذ کی تھی، تاہم APNS کے احتجاج اور درخواست پر وزیراعلیٰ پنجاب نے اسے واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ نئی اشتہاری پالیسی کے ذریعے صوبائی بیوروکریسی حکومتِ بلوچستان اور میڈیا کے درمیان دوریاں پیدا کرنا چاہتی ہے، جس سے پرنٹ میڈیا کے ساتھ آپ کے خوشگوار تعلقات متاثر ہوں گے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ اخبارات میں ٹینڈر نوٹسز کی اشاعت روکنے سے نہ صرف اخبارات کی اشتہاری آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوگی بلکہ ممکنہ بولی دہندگان بھی ایسی اہم عوامی معلومات تک رسائی سے محروم ہو جائیں گے، جس کے باعث وہ خریداری کے عمل میں حصہ لینے سے قاصر رہیں گے۔ لہٰذا یہ اقدام شفافیت اور پروکیورمنٹ قوانین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، جسے واپس لیا جانا چاہیے۔

اے پی این ایس کو ہمیشہ حکومتِ بلوچستان، خصوصاً آپ کے دورِ حکومت میں بھرپور تعاون حاصل رہا ہے، اور ہمیں امید ہے کہ آپ کی قیادت میں حکومتِ بلوچستان پریس اور حکومت کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس پالیسی کو واپس لے کر بلوچستان کے اخبارات کو درپیش اس مسئلے کا حل نکالے گی۔

شکریہ۔

مخلص،

(سینیٹر سرمد علی)
صدر اے پی این ایس

شیئر کریں: WhatsApp

rauqu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *