بی ڈی اے اسٹاف ایسوسی ایشن بلوچستان کے عوام، ملازمین اور سرکاری اداروں کے مستقبل کے حوالے سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ہمارے نزدیک بی ڈی اے سمیت دیگر اداروں کو کمزور کرنے یا ان کے انضمام (Merger) جیسے اقدامات ہزاروں ملازمین کے روزگار اور بلوچستان کے عوامی مفاد کے لیے انتہائی تشویشناک ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بی ڈی اے اور دیگر عوامی اداروں کے اثاثوں، ساحلی علاقوں اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ہر فیصلہ مکمل شفافیت، قانون اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔ اگر عوام کے ذہنوں میں یہ خدشات موجود ہیں کہ ان اداروں کے اثاثوں یا وسائل کے بارے میں غیرشفاف فیصلے کیے جا رہے ہیں، تو حکومت ان خدشات کو دور کرنے کے لیے تمام معاملات عوام کے سامنے واضح کرے۔
بلوچستان پہلے ہی بے روزگاری، بدامنی، غربت، تعلیمی پسماندگی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں سرکاری محکموں کی مرجنگ یا ایسے اقدامات جن سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہو، مزید بے چینی اور غیر یقینی کو جنم دیں گے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ محکموں کی مرجنگ کا عمل فوری طور پر روکا جائے اور ملازمین، متعلقہ اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے۔
ہم سوال کرتے ہیں کہ جب عوام بے روزگاری، غربت اور عدم تحفظ کا شکار ہوں تو ان کے مسائل کون سنے گا؟ عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا آئینی حق حاصل ہے، اور ان کی آواز کو سننا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
بی ڈی اے اسٹاف ایسوسی ایشن پاکستان کے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتی ہے کہ بلوچستان کے عوام اور ملازمین پر رحم کیا جائے، ان کے روزگار، عزت اور مستقبل کا تحفظ کیا جائے، اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور ایسے فیصلے کیے جائیں جو آئین، قانون، انصاف اور عوامی مفاد کے مطابق ہوں۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ پاکستان میں امن، انصاف اور خوشحالی قائم ہو اور بلوچستان کے عوام کو بھی باوقار زندگی، روزگار اور ترقی کے مساوی مواقع میسر آئیں۔

Leave a Reply