Daily Gerowk Balochistan
October 23, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
DPRQ-1949DAB-434DPRQ-1890تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کا فیصلہ ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے، گورنر راج سے خیبر پختونخوا میں امن، ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کی نئی راہیں کھلیں گی، ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار حاجی صلاح الدین زہریDAB-401بی ڈی اے اسٹاف ایسوسی ایشن کے وفد کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے اہم ملاقاتلیفٹیننٹ جنرل عنایت حسین کور کمانڈر 12 کور بلوچستان تعیناتفیصل بینک کی مبینہ غیرشفاف کٹوتیاں، صارف کے اکاؤنٹ سے تیسری بار رقم وصول، ایکسپائرڈ کارڈ کے باوجود چارجز پر سنگین سوالاتDPRQ-1549بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے آئینی آگاہی، امن سازی اور مثبت کردار کے حوالے سے خصوصی سیشنDPRQ-1949DAB-434DPRQ-1890تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کا فیصلہ ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے، گورنر راج سے خیبر پختونخوا میں امن، ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کی نئی راہیں کھلیں گی، ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار حاجی صلاح الدین زہریDAB-401بی ڈی اے اسٹاف ایسوسی ایشن کے وفد کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے اہم ملاقاتلیفٹیننٹ جنرل عنایت حسین کور کمانڈر 12 کور بلوچستان تعیناتفیصل بینک کی مبینہ غیرشفاف کٹوتیاں، صارف کے اکاؤنٹ سے تیسری بار رقم وصول، ایکسپائرڈ کارڈ کے باوجود چارجز پر سنگین سوالاتDPRQ-1549بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے آئینی آگاہی، امن سازی اور مثبت کردار کے حوالے سے خصوصی سیشن

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط ہو گئے

تہران: ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام امریکا کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا اور اس معاملے پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور میزائل پروگرام قومی سلامتی کا اہم حصہ ہیں، اس لیے انہیں مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل کسی کے ساتھ بات چیت کے لیے نہیں بلکہ دفاع اور استعمال کے لیے ہیں۔ ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی مرحلے، کسی بھی عمل یا کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔

اسماعیل بقائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران حالیہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق کر چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے مزید مذاکرات کی تیاری کی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران طویل عرصے سے اپنے میزائل پروگرام کو ناقابلِ مذاکرات معاملہ قرار دیتا آیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کے میزائل دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور بعض مغربی ممالک ماضی میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اسے علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم موضوع قرار دیتے آئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم بعض بنیادی معاملات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ مذاکرات میں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی استحکام جیسے موضوعات زیر بحث آ سکتے ہیں، لیکن ایران نے پہلے ہی اشارہ دے دیا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

شیئر کریں: WhatsApp

rauqu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *