Daily Gerowk Balochistan
September 11, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
راجی راہشون میر اسد اللہ بلوچ کا حاجی خلیل الرحمان کی وفات پر اظہار تعزیتڈی آی او ڈاکٹر نصیر علی شاہ کی قابل تحسینسردار بہادر خان ویمنز یونیورسٹی نے ہاسٹلز میں بدانتظامی کی خبروں کی تردید کردیشہداء کا لہو، شاہینوں کی پرواز ، 1965 کی فضائی جنگگزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیDPRQ-1171اسلام آباد کانفرنس میں شرکت کرنے والے گالیاں کھا کر واپس آئے ہیں، صادق عمرانیقمبرانی روڈ پر صفائی کے نام پر مبینہ من مانی، خرچہ دیے بغیر کچرا اٹھانے سے انکارDPRQ-1115DPRQ-1117راجی راہشون میر اسد اللہ بلوچ کا حاجی خلیل الرحمان کی وفات پر اظہار تعزیتڈی آی او ڈاکٹر نصیر علی شاہ کی قابل تحسینسردار بہادر خان ویمنز یونیورسٹی نے ہاسٹلز میں بدانتظامی کی خبروں کی تردید کردیشہداء کا لہو، شاہینوں کی پرواز ، 1965 کی فضائی جنگگزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیDPRQ-1171اسلام آباد کانفرنس میں شرکت کرنے والے گالیاں کھا کر واپس آئے ہیں، صادق عمرانیقمبرانی روڈ پر صفائی کے نام پر مبینہ من مانی، خرچہ دیے بغیر کچرا اٹھانے سے انکارDPRQ-1115DPRQ-1117

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط ہو گئے

تہران: ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام امریکا کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا اور اس معاملے پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور میزائل پروگرام قومی سلامتی کا اہم حصہ ہیں، اس لیے انہیں مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل کسی کے ساتھ بات چیت کے لیے نہیں بلکہ دفاع اور استعمال کے لیے ہیں۔ ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی مرحلے، کسی بھی عمل یا کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔

اسماعیل بقائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران حالیہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق کر چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے مزید مذاکرات کی تیاری کی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران طویل عرصے سے اپنے میزائل پروگرام کو ناقابلِ مذاکرات معاملہ قرار دیتا آیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کے میزائل دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور بعض مغربی ممالک ماضی میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اسے علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم موضوع قرار دیتے آئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم بعض بنیادی معاملات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ مذاکرات میں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی استحکام جیسے موضوعات زیر بحث آ سکتے ہیں، لیکن ایران نے پہلے ہی اشارہ دے دیا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

شیئر کریں: WhatsApp

rauqu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *