کراچی (ویب ڈیسک ) ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹ ساؤتھ، جوڈیشل کمپلیکس سینٹرل جیل کراچی نے دوہرے قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم بابر ولد عبدالقئیوم کو دو افراد کے قتل کے جرم میں دو مرتبہ سزائے موت جبکہ اس کے بھائی محمد جاوید ولد عبدالقئیوم کو دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنا دی۔ اسی قتل کے مقدمے سے منسلک ناجائز اسلحہ رکھنے کے علیحدہ مقدمے میں بھی ملزم بابر کو 7 سال قیدِ بامشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
دونوں مقدمات کا فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج/ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹ ساؤتھ عبدالحفیظ لاشاری نے 24 اگست 2026 کو سنایا۔ دوہرے قتل کا مقدمہ تھانہ کلاکوٹ میں FIR No.252/2021، زیر دفعہ 302/34 PPC کے تحت درج تھا، جس میں مقتولین عبدال یاسر ولد محمد عصمت اور مسماۃ صوفیہ زوجہ محمد جاوید شامل تھیں۔
مقدمے کی مؤثر پیروی ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر شکیل احمد عباسی نے کی، جنہوں نے اپنے حتمی دلائل میں عدالت کے سامنے عینی، طبی، فرانزک اور حالات و واقعات پر مبنی شہادتوں کا مربوط سلسلہ پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ نے ملزمان کے خلاف ایسا ناقابلِ انقطاع شہادتی سلسلہ قائم کر دیا ہے جس سے ملزمان کے جرم کے علاوہ کوئی معقول نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
شکیل احمد عباسی کے مؤثر دلائل کا اہم نکتہ یہ تھا کہ وقوعہ ملزمان کے زیر قبضہ گھر کے اندر پیش آیا، جہاں دونوں مقتولین موجود تھے۔ استغاثہ کے اہم گواہ محمد عمر نے عدالت میں ملزم بابر کو فائرنگ کرتے ہوئے جبکہ ملزم جاوید کو مقتول یاسر کو قابو کرتے یا پیچھے سے دھکیلتے ہوئے بیان کیا۔ ایک دوسرے گواہ شاہ فہد نے بھی وقوعہ کے فوراً بعد بابر کو پستول کے ساتھ فرار ہوتے دیکھنے کی گواہی دی۔
ڈی ڈی پی پی شکیل عباسی نے عدالت کو بتایا کہ عینی شہادت کو طبی اور فرانزک شواہد سے بھی مکمل تقویت حاصل ہے۔ دونوں مقتولین کی موت آتشیں اسلحہ سے لگنے والے زخموں کے باعث ہوئی جبکہ جائے وقوعہ سے چھ خالی خول اور خون کے نمونے برآمد ہوئے۔ بعد ازاں ملزم بابر کی نشاندہی پر کچی میمن قبرستان سے برآمد ہونے والے 32 بور پستول نمبر 5586 کے بارے میں فرانزک سائنس لیبارٹری نے تصدیق کی کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے تمام چھ خالی خول اسی پستول سے فائر ہوئے تھے۔
استغاثہ نے عدالت کے سامنے اس فرانزک شہادت کی خصوصی اہمیت بھی اجاگر کی کہ قتل کے مقدمے میں برآمد ہونے والے چھ خالی خول پستول کی برآمدگی سے قبل ہی فرانزک لیبارٹری بھجوائے جا چکے تھے، جبکہ پستول بعد میں ملزم بابر کی نشاندہی پر برآمد ہوا۔ شکیل عباسی کے مطابق اس شہادت سے نہ صرف برآمدگی کی اہمیت واضح ہوتی ہے بلکہ خالی خول بعد میں تیار یا تبدیل کیے جانے کا امکان بھی ختم ہو جاتا ہے۔
دفاع کی جانب سے ملزم جاوید نے نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے حملے کا مؤقف اختیار کیا، تاہم ڈی ڈی پی پی شکیل احمد عباسی نے اس دفاعی مؤقف پر مؤثر جرح کرتے ہوئے عدالت کے سامنے نشاندہی کی کہ ملزم مبینہ حملے کی بابت پولیس کو اطلاع دینے، علاج معالجے کا قابلِ اعتماد ریکارڈ پیش کرنے یا مبینہ حملہ آوروں کی شناخت کرنے میں ناکام رہا۔ استغاثہ کے مطابق جاوید کا وقوعہ کے بعد کا طرزِ عمل بھی اس کے دفاعی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ایک اہم قانونی نکتے پر بھی عدالت نے ڈی ڈی پی پی شکیل احمد عباسی کے اعتراض کو درست قرار دیا۔ جب ایک عینی گواہ سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والے اسلحے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو شکیل عباسی نے اعتراض اٹھایا کہ متعلقہ گواہ اسلحہ کی برآمدگی کا مشیر نہیں بلکہ وقوعہ کا عینی گواہ ہے، اس لیے اس سے مخصوص تفتیشی مرحلے سے متعلق سوال متعلقہ نہیں۔ عدالت نے اعتراض کو قانونی اصولوں کے مطابق درست قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ عینی شہادت اور اسلحہ کی برآمدگی الگ نوعیت کے شواہد ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بابر کے خلاف عینی، حالات و واقعات اور فرانزک شواہد ایک دوسرے کی مکمل تائید کرتے ہیں، جبکہ جاوید کا کردار مشترکہ نیت کے تحت مقتول کو قابو کرنے اور جرم میں معاونت کرنے کے طور پر ثابت ہوا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ نے ایسا مربوط اور ناقابلِ انقطاع سلسلۂ شہادت پیش کیا ہے جس سے ملزمان کے جرم کے علاوہ کوئی معقول نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے ملزم بابر کو عبدال یاسر اور مسماۃ صوفیہ کے قتل کے جرم میں الگ الگ دو مرتبہ سزائے موت سنائی، جو سندھ ہائی کورٹ کی توثیق سے مشروط ہے، جبکہ دونوں مقتولین کے قانونی ورثاء کے لیے پانچ، پانچ لاکھ روپے معاوضہ بھی مقرر کیا۔
دوسرے ملزم محمد جاوید کو دونوں قتلوں میں دفعہ 302(b) بمعہ دفعہ 34 PPC کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ دونوں سزائیں بیک وقت چلانے کا حکم دیا گیا اور اسے دفعہ 382-B Cr.P.C کا قانونی فائدہ بھی دیا گیا۔ فیصلے کے بعد عدالت نے جاوید کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے اسے حراست میں لے کر جیل بھیجنے کا حکم دیا، جبکہ بابر پہلے ہی زیر حراست تھا۔ بابر کی سزائے موت کی توثیق کے لیے معاملہ سندھ ہائی کورٹ بھجوایا جائے گا۔
ناجائز اسلحہ کیس میں بھی بابر کو 7 سال قید
دوسری جانب اسی مقدمے کے دوران ملزم بابر کی نشاندہی پر برآمد ہونے والے مبینہ قتل کے آلۂ جرم کے حوالے سے قائم ناجائز اسلحہ کیس میں بھی عدالت نے ملزم کو مجرم قرار دے دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ نے سندھ آرمز ایکٹ 2013 کی دفعہ 23(1)(A) کے تحت الزام بلا شک و شبہ ثابت کیا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم بابر کی نشاندہی پر کچی میمن قبرستان سے بغیر لائسنس پستول نمبر 5586، میگزین اور چار زندہ راؤنڈز برآمد ہوئے۔
اس مقدمے میں بھی ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر شکیل احمد عباسی نے مؤثر دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ناجائز اسلحہ کا مقدمہ اصل قتل کے مقدمے کا آف شوٹ ہے اور ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہونے والے پستول کا قتل کے مقدمے میں برآمد ہونے والے چھ خالی خولوں کے ساتھ فرانزک میچ ہونا استغاثہ کے مقدمے کی انتہائی اہم کڑی ہے۔
شکیل عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ برآمد شدہ پستول کو فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوایا گیا جہاں اسے قابلِ استعمال حالت میں پایا گیا، جبکہ قتل کے مقدمے سے حاصل ہونے والے چھ خالی خولوں کے بارے میں بھی فرانزک تصدیق ہوئی کہ وہ اسی پستول سے فائر کیے گئے تھے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے یہ قانونی نکتہ بھی پیش کیا کہ پولیس افسران محض سرکاری اہلکار ہونے کی بنیاد پر ناقابلِ اعتماد گواہ نہیں بن جاتے بلکہ قانون کے مطابق ان کی شہادت دیگر گواہوں کی طرح قابلِ اعتماد اور قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ تینوں استغاثہ گواہان نے پستول کی برآمدگی کے حوالے سے تاریخ، مقام، طریقۂ برآمدگی، پستول نمبر 5586 اور چار زندہ راؤنڈز کے بارے میں یکساں اور باہم مربوط شہادت دی۔ عدالت نے دفاع کے جانب سے نجی گواہ کی عدم موجودگی اور دیگر ریکوری اعتراضات کو بھی مسترد کر دیا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ سندھ آرمز ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے اور دفعہ 103 ضابطۂ فوجداری کے اطلاق کو خارج کرتا ہے، جبکہ پولیس اہلکار کی شہادت محض اس بنیاد پر مسترد نہیں کی جا سکتی کہ وہ سرکاری گواہ ہے۔
عدالت نے بالآخر ملزم بابر کو سندھ آرمز ایکٹ 2013 کی دفعہ 23(1)(A) کے تحت 7 سال قیدِ بامشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید قید کی سزا بھی مقرر کی گئی جبکہ ملزم کو پہلے سے جیل میں گزارے گئے عرصے کا قانونی فائدہ بھی دیا گیا۔
قانونی ماہرین کی شکیل عباسی کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے اہم رائے
عدالتی فیصلوں کے بعد قانونی حلقوں اور قانون کے ماہرین نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر شکیل احمد عباسی کی پیشہ ورانہ مہارت، قانونی گرفت اور شہادتوں کو مربوط انداز میں عدالت کے سامنے پیش کرنے کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ رواں ماہ ملزم کے خلاف آنے والی تیسری سزائے موت شکیل عباسی کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور فوجداری مقدمات میں مؤثر پیروی کا واضح ثبوت ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق قتل کے مقدمات میں صرف عینی شہادت کافی نہیں ہوتی بلکہ استغاثہ کو طبی، فرانزک، حالات و واقعات اور دیگر شہادتوں کے درمیان ایسا مضبوط ربط ثابت کرنا ہوتا ہے جس سے جرم کا پورا سلسلہ واضح ہو۔ موجودہ مقدمے میں شکیل عباسی کی جانب سے مختلف نوعیت کے شواہد کو باہم مربوط کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنا پراسیکیوشن کی مؤثر حکمتِ عملی کا مظہر ہے۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ خاص طور پر پستول کی بعد ازاں برآمدگی اور اس سے قبل ہی خالی خولوں کا فرانزک لیبارٹری پہنچ جانا استغاثہ کے لیے ایک اہم شہادتی کڑی تھی، جسے ڈی ڈی پی پی شکیل احمد عباسی نے اپنے دلائل میں مؤثر انداز سے اجاگر کیا۔ اسی طرح دورانِ جرح قانونی اعتراضات اٹھانا اور عینی شہادت و ریکوری شہادت کے قانونی فرق کو واضح کرنا بھی ان کی فوجداری قانون پر گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔
قانونی حلقوں کے مطابق ایک ہی مقدماتی سلسلے میں دوہرے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت، دوسرے ملزم کو عمر قید اور بعد ازاں اسی مبینہ آلۂ جرم کے ناجائز اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں مزید سات سال قید کی سزا کا آنا پراسیکیوشن کی مضبوط پیروی اور شہادتوں کی مؤثر پیشکش کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف دوہرے قتل کے مقدمے میں استغاثہ کے مؤقف کی کامیابی ہے بلکہ اس امر کی بھی مثال ہے کہ مضبوط قانونی تیاری، شہادتوں کا درست تجزیہ، بروقت قانونی اعتراضات اور مؤثر حتمی دلائل فوجداری مقدمات کے فیصلوں پر کس قدر اہم اثر ڈالتے ہیں۔
دوہرے قتل کے مجرم بابر کو دو مرتبہ سزائے موت، بھائی جاوید کو عمر قید، ناجائز اسلحہ کیس میں بابر کو مزید 7 سال قید
rauqu
← پچھلی خبر
DPRQ-978

Leave a Reply