کوئٹہ ( خ ن) بلوچستان ہائی کورٹ نے آئینی پٹیشن نمبر 471/2026 میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے بلوچستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے 2 اپریل 2026 کو بلوچستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 2020 میں کی گئی ترامیم کو غیر قانونی، الٹرا وائرس اور کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بار کونسلز ایکٹ 1973 کی بنیادی دفعات میں ردوبدل کا اختیار حاصل نہیں، جبکہ انرولمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے چیف جسٹس کی جانب سے نامزد ہائی کورٹ کے جج کے کردار کو قواعد کے ذریعے ختم یا محدود نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے واضح کیا کہ بار کونسلز ایکٹ 1973 کی دفعہ 10 کے تحت انرولمنٹ کمیٹی کی سربراہی ہائی کورٹ کے نامزد جج کے پاس ہونا لازمی ہے، لہٰذا قواعد میں ایسی کوئی ترمیم جو اس قانونی اسکیم کو متاثر کرے، آئین اور قانون دونوں کے منافی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ایگزیکٹو کمیٹی نے قواعد میں ترامیم کرتے وقت نہ صرف مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا بلکہ رولز کمیٹی، بلوچستان بار کونسل کے مکمل اجلاس اور متعلقہ قانونی تقاضوں کو بھی نظر انداز کیا، اس لیے یہ ترامیم تفویض شدہ (Delegated) قانون سازی کے اختیارات سے تجاوز اور رنگین قانون سازی (Colorable Legislation) کے مترادف ہیں۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ انرولمنٹ کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور عدالتی نگرانی کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے، کیونکہ وکالت ایک باوقار پیشہ ہے اور اس میں داخلہ صرف قانون کے مطابق شفاف طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ پاکستان اور بھارتی سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ماتحت یا تفویض شدہ قانون سازی کے ذریعے بنیادی قانون کی لازمی دفعات کو تبدیل یا غیر مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے بلوچستان بار کونسل کو ہدایت کی کہ اگر قواعد میں ترمیم ضروری ہو تو وہ بار کونسلز ایکٹ 1973 اور مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق دوبارہ غور کر سکتی ہے، تاہم موجودہ ترامیم قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتیں۔عدالت نے آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے بلوچستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 2 اپریل 2026 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے کی گئی تمام متعلقہ ترامیم کو ختم کرنے کا حکم دے دیا۔
ـبلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچستان بار کونسل کے انرولمنٹ رولز میں 2 اپریل 2026 کی ترامیم کالعدم قرار دے دیں
rauqu
اگلی خبر →
DPRQ-525

Leave a Reply