Daily Gerowk Balochistan
September 14, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
لوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت متفق اور یکسو ہے، اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیDAB-322راجی راہشون میر اسد اللہ بلوچ کا حاجی خلیل الرحمان کی وفات پر اظہار تعزیتڈی آی او ڈاکٹر نصیر علی شاہ کی قابل تحسینسردار بہادر خان ویمنز یونیورسٹی نے ہاسٹلز میں بدانتظامی کی خبروں کی تردید کردیشہداء کا لہو، شاہینوں کی پرواز ، 1965 کی فضائی جنگگزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیDPRQ-1171اسلام آباد کانفرنس میں شرکت کرنے والے گالیاں کھا کر واپس آئے ہیں، صادق عمرانیقمبرانی روڈ پر صفائی کے نام پر مبینہ من مانی، خرچہ دیے بغیر کچرا اٹھانے سے انکارلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت متفق اور یکسو ہے، اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیDAB-322راجی راہشون میر اسد اللہ بلوچ کا حاجی خلیل الرحمان کی وفات پر اظہار تعزیتڈی آی او ڈاکٹر نصیر علی شاہ کی قابل تحسینسردار بہادر خان ویمنز یونیورسٹی نے ہاسٹلز میں بدانتظامی کی خبروں کی تردید کردیشہداء کا لہو، شاہینوں کی پرواز ، 1965 کی فضائی جنگگزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط اور تلف کی گئی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیDPRQ-1171اسلام آباد کانفرنس میں شرکت کرنے والے گالیاں کھا کر واپس آئے ہیں، صادق عمرانیقمبرانی روڈ پر صفائی کے نام پر مبینہ من مانی، خرچہ دیے بغیر کچرا اٹھانے سے انکار

نئی اشتہاری پالیسی کی وجہ سے صوبائی حکومت اور میڈیا کے درمیان فاصلے پیدا ہوں گے۔ اے پی این ایس

کوئٹہ (ویب ڈیسک)حکومت بلوچستان نے “بلوچستان ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026ء” یکم جولائی سے نافذ کر دیا ہے۔جبکہ اس یکطرفہ پالیسی پر میڈیا تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس پالیسی میں “2023ء کی پالیسی میں ترمیم” کے بعد طے کیا گیا ہے کہ تمام “ٹینڈر نوٹس، نیلامی کے نوٹس، پری کوالیفکیشن نوٹسز اور اظہار دلچسپی (EOI) کے اشتہارات “صرف بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (BPPRA) کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں گے۔اس پالیسی کا مقصد مذکورہ اشتہارات کی اخبارات میں اشاعت محدود کرنا ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان کی اخباری صنعت کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور حکومت اور پریس کے درمیان موجود خوشگوار تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ اس قسم کی پالیسی پہلے حکومت پنجاب نے بھی نافذ کی تھی، لیکن “آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS)” کے احتجاج اور درخواست پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے ازراہ کرم اس پالیسی کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ ملک کے کسی صوبے میں ایسی پالیسی نافذ العمل نہیں ہے۔اے پی پی ایس سمجھتی ہے کہ نئی اشتہاری پالیسی کے ذریعے صوبائی حکومت اور میڈیا کے درمیان فاصلے پیدا ہوں گے اور حکومت اور پرنٹ میڈیا کے درمیان خوشگوار تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔ ہمارا پختہ موقف ہے کہ اخبارات میں ٹینڈر نوٹسز کی اشاعت بند کرنے سے نہ صرف اخبارات کی اشتہاری آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوگی بلکہ ممکنہ بولی دہندگان بھی اس اہم عوامی معلومات تک بروقت رسائی سے محروم ہو جائیں گے، جس کے باعث وہ سرکاری خریداری (Procurement) کے عمل میں مؤثر انداز میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ مزید برآں اس سے بد عنوانی کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔لہذا یہ اقدام “شفافیت کے اصول” اور “پروکیورمنٹ قوانین” کے منافی ہے، اس لیے اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔اے پی پی ایس مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت بلوچستان حکومت اور پریس کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس پالیسی کو واپس لے اور میڈیا تنظیموں کی باہمی مشاورت سے نئی میڈیا پالیسی تشکیل دے تاکہ صوبے کے اخبارات کو درپیش اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے

شیئر کریں: WhatsApp

rauqu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *