باغات صرف درخت نہیں، ہزاروں خاندانوں کے بچوں کے مستقبل کا سہارا ہیں، ڈاکٹر یاسر
بی این پی عوامی کے سینٹرل کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر یاسر نصیر شاہوانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے
اگر کسی علاقے میں کسی باغ، مکان یا دکان کی آڑ لے کر پولیس یا سیکیورٹی فورسز پر حملہ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار حملہ آور ہے، نہ کہ پورے علاقے کے غریب عوام اور زمیندار۔
اگر ایک باغ میں کسی واقعے کی بنیاد پر پورے علاقے کے باغات کو نشانہ بنایا جائے، تو پھر کل اگر کسی شہر میں کسی دیوار، مکان یا دکان کی آڑ میں پولیس پر حملہ ہو جائے تو کیا حکومت پورے شہر میں بھی بلڈوزر چلا دے گی؟
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اصل مجرموں اور سہولت کاروں کو گرفتار کرے، شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرے اور قانون کے مطابق سزا دے۔ لیکن ہزاروں غریب خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ چھین لینا کسی صورت مسئلے کا حل نہیں۔
مستونگ اور کھڈکوچہ کے باغات صرف درخت نہیں، ہزاروں خاندانوں کی محنت، روزگار اور بچوں کے مستقبل کا سہارا ہیں۔
حکومت اپنی سیکیورٹی کی ناکامی کا ملبہ غریب عوام کے روزگار پر نہ ڈالے۔
دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں، غریبوں کے باغات کے خلاف نہیں۔

Leave a Reply