کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ وہ بلوچستان کے تین روزہ دورے پر آئے ہیں اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب بھی وہ صوبے کا دورہ کرتے ہیں، حالات پہلے سے زیادہ خراب نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے پیش نظر قومی کانفرنس کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معاملے پر نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن جماعتیں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے مولانا ہدایت الرحمٰن کی قیادت میں “حق دو تحریک” کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد میں پُرامن لانگ مارچ کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے مسائل پر نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم اس وعدے پر آج تک عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی رواں سال ستمبر تک بلوچستان کے حوالے سے ایک قومی کانفرنس منعقد کرے گی، جس میں ملک بھر کی تمام سیاسی قیادت کو شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے آئینی، جمہوری اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھے گی

Leave a Reply