کوہٹہ کوئٹہ میں ٹریفک چیکنگ کے دوران کابلی گاڑی روکنے پر مبینہ طور پر وکلاء نے لیڈی ٹریفک پولیس اہلکار میڈم شبانہ پر حملہ کر دیا واقعے کے دوران سرکاری ڈیوٹی میں بھی رکاوٹ ڈالی گئی قانون کے محافظ کہلانے والوں کا یہ رویہ شدید تشویش کا باعث ہے عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔*
نوٹ کوئٹہ شہر میں ہزاروں کابلی گاڑیوں،رکشوں اور نئے عذاب چینچی نے کوئٹہ شہر کی کو تبا و برباد کیا ہوا ہے اور کابلی گاڑیاں صرف بڑے تعلقات رکھنے والے لوگ چلاتے ہیں قانون نافض کرنے والے اداروں میں پتہ نہیں کیوں ہمت نہیں ہوتی کہ ان پہ ہاتھ ڈالیں چند دن پہلے کوئٹہ کینٹ میں صرف 5 دن کے اندر ایم پی اور کسٹم نے 40 گاڑیاں سیز کر دیں اور اب کوئٹہ کینٹ میں ncp گاڑی لانے والے 1000 مرتبہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں اگر کوئٹہ شہر کو صاف کرنا ہے تو ncp گاڑیوں کا خاتمہ ضروری ہے
کابلی گاڑی روکنے پر لیڈی ٹریفک پولیس اہلکار شبانہ پر وکلاء کا حملہ

Leave a Reply